تازہ ترین
کام جاری ہے...
Monday, February 12, 2018

انٹرنیٹ کا آدمی

پہلی دفہ میں انٹرویو دینے ایف الیون گیا اور انٹرن شپ کے لیے سلیکٹ ہو گیا تو کافی پرجوش تھا کے خوب محنت کر کے سیکھوں گا لیکن مسلسل چھ گھنٹے بنا انٹرنیٹ کنیکشن والے کمپیوٹر  کے سامنے بیٹھنا گویا چھ گھنتے ایک ٹانگ پر کھڑا رہنے کے مترادف تھا جو ظاہر سی بات ہے میں نہیں کر سکتا تھا سو تیسرے دن ہی انٹرن شپ چھوڑ دی۔کچھ دنوں بعد کمپنی کے مینجر کی زاتی دلچسبی کی وجہ سے پھر انٹرن شپ شروع کر دی اور اس بار ایک ہفتہ تک کام کیا پھر چھوڑ دیا۔
کچھ ماہ پہلے پھر ایک مینجمنٹ کمپنی میں انٹرویو دیا سلیکٹ ہوا تو سوچا کچھ بھی ہو اس بار دل لگا کر سیکھوں گا لیکن بمشکل ایک ماہ ہی کام کر پایا تھا کے جی اچاٹ ہو گیا اور میں استفیٰ دے کر گھر بیٹھ گیا،اب کی بار میں پشاور میں ٹریننگ کے لیے سلیکٹ ہوا ہوں اور قوی امید و ارادہ ہے کے اس بار بھاگوں گا نہیں۔
اب آتے ہیں اس بات کی طرف کے میں چاہنے کے باوجود کیوں مستقل مزاجی سے روزگار کے ان بہترین مواقوں سے فائدہ نا اُٹھا سکا۔اس کی وجہ تھی انٹرنیٹ!! کیسے ؟
پرایمبری سے لے کر میٹرک تک انٹرنیٹ سے تعلق استوار نہیں ہوا تھا تو کتابوں کا شوقین تھا اتنا شوق کے سکول کی لائبریری سے کتابیں چوری کر کے بھی پڑھیں(کتابیں پڑنے کے بعد واپس کر دی تھی)،کالج کے زمانے میں گو فرصت نہیں ملتی تھی لیکن پھر بھی کتابوں سے تعلق قائم رہا۔یونیورسٹی  میں مگر آیا تو انٹرنیٹ کی ایسی لت پڑی کے بس خرید کر جو کتابیں رکھی تھی آج چار سال کے بعد بھی اُن کو نہیں پڑھ سکا اور وہ میرے سرہانے کے اوپر رکھی میرا منہ چڑھا رہی ہوتی ہیں،انٹرنیٹ نے صرف کتابوں سے تعلق کو ختم نہیں کرایا بلکہ میں انٹرنیٹ کی وجہ سے اپنے کالج اور سکول کے تمام دوستوں سے کٹ کر رہ گیا اور شنید ہے کے ڈگری کے خاتمے پر یونیورسٹی کے دوست بھی بھولی بسری یاد بن کر رہ جائیں گے.
انٹرنیٹ جسکا بنیادی آییڈیا leonard Kleinrock نے 1961 میں دیا تھا اور 1991 میں جسکی باقاعدہ پیدائش ہوئی تھی اب ٹیکنالوجی کی ماں بن چکا ہے۔دنیا کا تقریباً ہر دوسرا آدمی انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہو راہا ہے، اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں انٹرنیٹ استعمال کرنے ولے لوگوں کی تعداد تین ارب آٹھارا کروڑ سے زائد ہے جبکہ ویب سائٹس کی تعداد بھی ایک ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے ممالک میں چین سرفہرست ہے جہاں سات کروڑ سے زائد لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، امریکہ اٹھائیس کروڑ اور انڈیا پچیس کروڑ استعمال کندگان کے ساتھ بلترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔مسلمان ممالک میں نائجیریا سات کروڑ کے ساتھ آٹھویں جبکہ انڈونیشیا اور مصر پانج پانج کروڑ کے ساتھ تیرویں اور چودھویں نمبر پر ہیں۔پاکستان ڈھائی کروڑ انٹرنیٹ استعمال کند گان کے ساتھ آٹھائسویں نمبر پر ہے۔
مستقبل قریب میں انٹرنیٹ کے بغیر جینا تقریباً ناممکن ہو جائے گا اور مزے کی بات یہ ہے کے آپکو انٹرنیٹ کا کنکشن بھی نہیں لینا پڑے گا۔ یہ خودکار طریقے سے آپکی پیدائش سے ہی آپکے ساتھ اٹیچ ہو جائے گا، مزید براں انٹرنیٹ کی سہولت استعمال کرنے کے لیے آپکو کسی ڈیوائس کی ضروت بھی نہیں پڑے گی۔ آپ اپنے دماغ اور آنکھوں سے انٹرنیٹ کو استعمال اور کنٹرول کریں گے لیکن اس کے لیے آپکو مزید  پچاس سال جینا ہو گا۔



0 تبصرے:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں