تازہ ترین
کام جاری ہے...
Friday, May 25, 2018

آگے سمندر ہے

شروع سے لے کر آخر تک اس ناول نے مجھے اپنے سحر میں لیے رکھا ہے،  جواد(مصنف) ایک ایسا شخص ہے جو ہجرت کر کے پاکستان آتا ہے اور  وہاں مجو بھائی اْسکی مدد کرتے ہیں۔
آگئے سمندر ہے- aagy smundar ha
سارے ناول میں جواد کو ماضی کی یادیں ستاتی رہتی ہیں، یادوں کی ایسی تان بان ہے کے ایک یاد دوسری یاد میں مکس ہو جاتی ہے اور پھر ایک یاد سے دوسری یاد اور پھر دوسری سے تیسری یوں یادوں کی ایک لڑی شروع ہو جاتی ہے جو ایک گلی سے  نکل دوسری گلی، اس نگر سے ہوتی ہوئی اْس نگر ، کریہ کریہ گھومتی قرطبہ پہنچتی ہے، واہان سے غرناطہ، واہاں سے اشبیلہ، واہاں سے بغداد اور چل سو چل۔۔۔ مانسرور چھیل،میتھرا نگری اور پھر کتنے ہی کردار ، ابن حبیب، عبدللہ، گنیش، مہاراج گورو شمبھو، نریندر۔۔۔۔پھوپھی امان، بڑی بھابی، چھوٹی ماں، خیرل بھائی، شنکر، چھوٹے میاں۔۔۔۔بشو بھائی، باجی اختری، توصیف، مرزا صاھب، رفیق صاھب، اقن میاں، اچھی بی۔۔۔اور عشرت اور میمونہ بھی۔۔۔   غرض جواد ماضی میں رہنے والا ایسا آدمی ہوتا ہے جو بظاہر اپنے نجی ماضی کی یادیں پورے جہاں کی یادوں سے خلط ملط کر بیٹھتا ہے، ایک سفر کرتا ہے وہ بھی ادھورا اور پھر وہ سفر آخر تک ناگ بن کر ڈھستا رہتا ہے، کراچی جس شہر میں وہ آباد ہے وہ دن بدن اجڑتا جا رہا ہے، لاشیں گر رہی ہیں ،
 گولیاں چل رہی ہیں، بینک لوٹے جا رہے ہیں، اور موت رقص کر رہی ہے اور ہاں لیکن مشاعرے ہیں کے رکنے کا نام نہیں لیتے اور مجو بھائی ہیں کے محفل سے باز نہیں آتے،،،،،،، ایک گولی جواد کی نطر ہوتی ہے تو ایک بم مجو بھائی کے نام!!!  اوم تت ست!!

0 تبصرے:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں