تازہ ترین
کام جاری ہے...
جمعرات، 7 مئی، 2015

جناب جاوید چودھری صاحب ! دوسروں کو نصیحت ،خود میاں فصیحت !

جاوید چودھری ضلع گجرات کے ایک گاؤں میں 1968 کو پیدا ہوئے۔ ابتدا میں تعلیم کی طرف رغبت کم تھی لیکن پھر چودھری صاھب نے محنت کا راز جانا اور اتنی محنت کی کے 1991 میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ماس کمیونیکشن میں گولڈ میڈل حاصل  کیا۔ کولمبیا یونیورسٹی اور جونزہوپ کنز یونیورسٹی امریکہ سے میڈیا مینجمنٹ کے کورسز کیے اور واپس آ کر عملی صحافت میں حصّہ لینا شروع کیا۔ پہلے روزنامہ امت اور روزنامہ خبریں میں کالم لکھے اور پھر 1997 میں روزنامہ جنگ سے وابستہ ہوئے اور 2006 تک جنگ کے ادارتی صفحے پر آپکے کالم جگمگاتے رہے۔ 2006 میں جنگ کو چھوڑ کر ایکسپریس میڈیا گروپ سے وابستہ ہوئے اور تا حال وابستہ ہیں۔بلا شبہ جاوید چودھری ہی وہ کالم نگار ہیں جو پاکستان میں سب سے زیادہ مقبول ہیں۔ان کے کالم معلوماتی او لکھنے کا انداز ایسا خوبصورت کے ایک دفہ پڑھنے والا آپکےکالم کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے۔یہ تقریباً دنیا کے ہر قابل زکر ملک اور شہر کی سیر کر چکے ہیں اور وہاں اپنے تجربات اور مشاہدات سے اپنے قارئین کو باخبر رکھتے ہیں۔ آپ ہمیشہ اپنے کالموں میں یہ درس دیتے آئے ہیں کہ بات دلییل سے کی جانی چاہیے اور اگر کوئی دوسرا اپکو قائل کر لے تو بلا تردّد اُسکی بات مان لینی چاہیے ۔جاوید چودھری کو 1997 اور 1998 میں اے پی این ایس کی طرف سے بہترین کالم نگار کا ایواڈ دیا گیا۔1998 میں ہی گورنمنٹ کی جانب سے انکو "ایکسیلینسی ایواڈ" سے نوزا گیا۔ حکیم محمد سعید شہید کی یاد میں انکا کالم "شہید مدینہ" بہت مقبول ہوا.انکا کالم زیرو پوائنٹ پاکستان میں سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ 2008 میں جاوید چودھری نے الیکڑانک میڈیا میں قدم رکھا اور پرنٹ میڈیا کی طرح یہاں بھی کامیابی نے قدم چومے۔انکا پروگرام 'کل تک'  پاکستان کے پہلے تین مشہور ترین پروگراموں میں شامل ہوتا ہے۔جاوید چودھری کی رائے پچھلے بیس سالوں میں پاکستان کی کی عوام کی رائے سازی میں سب سے نماہاں کردار ادا کرتی آئی  ہے۔ بلاشبہ پاکستانی صحافت کا زکر جاوید چودھری کے زکر کے بغیر نامکمل ہوگا
2008 میں جاوید چودھری نے الیکڑانک میڈیا میں قدم رکھا اور پرنٹ میڈیا کی طرح یہاں بھی کامیابی نے قدم چومے۔انکا پروگرام 'کل تک'  پاکستان کے پہلے تین مشہور ترین پروگراموں میں شامل ہوتا ہے۔جاوید چودھری کی رائے پچھلے بیس سالوں میں پاکستان کی کی عوام کی رائے سازی میں سب سے نماہاں کردار ادا کرتی آئی  ہے۔ بلاشبہ پاکستانی صحافت کا زکر جاوید چودھری کے زکر کے بغیر نامکمل ہوگا۔

پیچھلے دنوں جاوید چودھری نے ایک کالم لکھا "دو اسلام" جس میں انہوں نے ڈاکٹر غلام جیلانی برق مرحوم کی آن کتابوں کا حوالہ دیا جن کتابوں سے خود غلام جیلانی برق نے اپنے اپکو علحیدہ کر دیا تھا۔بظا ہر تو اس میں کوئی خاص بات نہیں تھی لیکن شائد ریکاڈ کی درستگی کے لیے اوریا مقبول جان نے جوابی کالم لکھا جس میں اس بات کی اصلاح کی گئی کہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کے جن خیالات کو بنیاد بنا کر جاوید چودھری صاھب نے کالم لکھا ہے اُن خیالات سے خود غلام جیلانی برق مرحوم تائب ہو چکے تھے۔ بس پھر کیا تھا جاوید چودھری صاھب تحقیر پر اُتر آئے اور بجائے تحقیق سے جواب دینے کے طنزیہ لہجے میں لکھا کہ 
"چونکہ میرے دوست پر کشف ہوتے ہیں اس لیے وہ علامہ اقبال کی روح سے بھی رابطہ کریں ہو سکتا ہے وہ بھی  'سارے جہاں سے اچھا ہے ہندوستاں ہمارا ' جیسے ترانے پر کف افسوس مل رہے ہوں،اپ اپنی روحانی طاقت سے قائداعظم سے بھی ربطہ کر کے گوادر کاشغر روٹ پر ہمیں انکی آرا سے بھی با خبر کر دیں"۔
ساتھ ہی جاوید چودھری صاھب نے اوریا مقبول جان کو چیلنج بھی کر دیا کہ آپ غلام جیلانی برق کی کسی بھی تحریر سے یہ ثابت کر دیں کہ  وہ اپنی کتابوں "دو اسلام " اور "دو قران" پر نادم تھے۔
جواب میں اوریا مقبول جان نے "فضائے بدر پیدا کر" کے نام سے کالم لکھا اور شائستگی سے جاوید چوھری کے چیلنچ کو قبول کرتے ہوئے یہ ثابت کر دیا کے غلام جیلانی برق نا صرف اپنی کتابوں "دو اسلام" اور "دو قران" پر نادم تھے بلکہ انہوں نے ایک خط کے زریعے پبلشرز کو مزید ان کتابوں کو چھاپنے سے بھی منع کر دیا تھا اور ساتھ ہی بطور ثبوت اوریا مقبول جان نے وہ خط اپنے فیس بک پیج پر اپلوڈ بھی کر دیا۔


جواب میں جاوید چودھری نے کام لکھا "میں نادم ہوں" جس میں آخری پیراگراف میں اپنی شکست تو تسلیم کر لی لیکن اس سے پہلے کے پانچ پیراگراف میں اپنے ہی بنائے گے اصولوں کو ایک طرف رکھ کے اوریا مقبول جان کی زات  کی خوب تحقیر کی کبھی ڈی ایم جی گروپ میں شامل ہونے کا طعنہ دیا تو کبھی "صوفی بیروکریٹ " ہونے کا۔ کبھی ٹائی کوٹ اور پتلون پہنے کا تو کبھی سگار پینے کا۔غرض یہ کالم تنقید برائے تنقید ،حسد ، بغض اور جلن سے بھرا پڑا ہے۔چودھری صاھب نے ایک پیمانہ مقرر کر دیا ہے کہ اگر مجھ سے مکالمہ کرنا ہے تو اپکو خود فرشتہ  ہونا چاہیے نہ آپ سگار پیتے ہوں، نہ پتلون اور ٹائی کوٹ پہنتے ہوں اور نہ ہی آپ کبھی ٹیلی ویژن پر آئے ہوں اور نہ ہی کبھی آپ گورنمنٹ ملازم رہے ہوں وغیرہ وغیرہ۔

جناب جاوید چودھری صاھب !
آپ میرے فیورٹ کالم نگار ہیں ۔میں شروع دن سے اپکو پڑتا آیا ہوں،میں نے اپنے بلاگ کا نام  " چیک پوائنٹ" بھی آپکے کالم "زیرو پوائنٹ " سے متاثر ہو کر رکھا تھا۔ آپکے کالم میں اتنی معلومات ہوتی ہیں جو بعض اوقات ایک پوری کتاب میں نہیں ہوتی۔ آپ شائد وہ واحد کالم نگار ہیں جو بیک وقت سوشل، الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا پر مقبول ہیں۔ لیکن یہ کیا کیا آپ نے!!پچھلے بیس برس آپ جو برداشت اور دوسرے کی بات کا دلیل سے جواب  دینے کا سبق ہمیں اپنے کالموں ، ٹاک شوز،کتابوں اور لیکچرز میں دیتے آئے ہیں وقت آنے پر آپ نے خود بھی وہ سبق بھلا دیا!!  دوسروں کو نصیحت ،خود میاں فصیحت




3 تبصرے:

  1. ایک۔ سب میں اپنی غلطی پر ٹوکے جانے پر برداشت کا مادہ نہیں ہوتا۔
    دو۔ جب ایسا شخص غلطی پر ٹوکے جس کا اپنا حلیہ اس کے نظریات سے نہ ملتا ہو، تو برداشت کرنا اور بھی مشکل ہوتا ہے۔
    تین۔ محض غلام جیلانی برق کے توبہ تائب کے سبب، ضعیف احادیث کا موضوع نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ موضوع حدیث کے علم کا سب سے اہم حصہ ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. بلاگ پر تشریف آوری اور تبصرے کا شکریہ۔ اپکی تینوں باتوں سے اتفاق ہے

      حذف کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں