تازہ ترین
کام جاری ہے...
منگل، 14 جولائی، 2015

بچپن کے روزے ہم اور پکوڑے۔

اپنے پہلے روزے کی تو صیح طرح یاد نہیں کے یاداشت بہت کمزور ہے اتنی کمزور کے صبح کھانے میں کیا کھایا دن تک بھول جاتا ہے، تاہم پہلے پہلے روزوں کی یاد  زہن کے کسی گوشے میں محفوظ ہے۔یہ تو یاد نہیں کے کتنی عمر میں پہلا روزہ رکھا تھا لیکن  وہ ساری شرارتیں جو ہم روزہ رکھ کر عموماً کرتے تھے  ابھی بھی ازبر ہیں۔خاندان میں قدرے اسلامی ماحول تھا کے رمضان میں نمارز روزے کا شوق دلایا جاتا تھا ۔سحری کرنے کے بعد سو جاتے تو جب اٹھتے تو پیاس کی شدت سے بر ا حال ہوتا  اور اُسی وقت ہم مصمّم ارادہ کرتے کے کچھ بھی ہو جائے آج کے بعد سحری کے وقت نہیں سونا لیکن اگلے دن پھر سوئے ہوتے اور جاگ کر پھر  نہ سونے کا "مصمّم " ارادہ کرتے۔دن سارا دوستوں سے گپّیں لگانے میں گزر جاتا۔۔
" اوئے تیرے کتنے روزے ہوگئے؟
 چھ!
اور کتنے کھائے تو نے؟ ( باوجود اسکے ہم کو پتہ ہوتا کے اگر کل دس روزے ہو گئے ہیں تو چھ اس نے رکھے ہیں تو چار کھائے ہو گے لیکن اسکو شرمندہ کرنے کے لیے لازمی پوچھتے کے کتنے کھائے تو نے؟)
یار چار کھائے صرف ابھی تک تو۔
او نہیں نہیں میں پوچھ راہا ہوں کے جو چھ رکھے ہیں اس میں سے چھپ چھپ کر کتنے کتنے کھائے ہیں تو نے ؟
تیری طرح تھوڑی ہوں کے روزے چھپ کے کھاؤں!
ہاں ہاں میری طرح نہیں ہے تب ہی تو پوچھ راہا ہوں کے بتا کتنے کھائے ہیں چھپ کے؟ تجھے پتا ہے میں تیر ی باتیں کسی کو نہیں بتاتا۔۔
یار مجھے روزہ لگا ہوا ہے تنگ نہ کر۔۔
یار بتا دے نہ کتنے کھائے ہیں تو نے(چھپ کے)؟ تیرے پیسے لگتے ہیں بتاتے ہوئے! میں کسی کو نہیں بتاؤں گا نہ۔
جا جا کے سب کو بتا دے میں نے چار روزے کھائے ہیں،،جا کے مسجد میں بھی اعلان کردیو!
ہاہا ہا،مجھے پتہ تھا کے تو چھ روزے پورے نہیں رکھ سکتا چار چھپ کے کھا گیا ہو گا!!!
 میں کہہ راہا ہوں کے کل دس میں سے میں نے چھ رکھے ہیں اور چار کھائے ہیں،چھپ کر ایک بھی نہیں کھایا!!
اچھا اچھا ، پتہ نہیں کیوں مجھے یقین نہیں آرہا،،،بہرحال میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں مسجد تو بھی آ جا کبھی مسجد کا منہ بھی دیکھ لیا کر۔خالی بھوکے رہنے سے کچھ نہیں ہوتا،،(میں نے کسی مولوی کی طرح اسکو نصیحت کی)۔۔
تو زیادہ حاجی نہ بن جانتا ہوں میں تجھے بھی ، تو وہی ہے نہ۔۔۔(اسکے بعد اس نے میرے کچھ خواص گنوائے جو یہاں زکر کرنا مناسب نہیں)
حد ہو گئی یا ر نیکی کا تو زمانہ نہیں۔مسجد کی طرف بلاؤ تو آگے سے الزام تراشیاں شروع  کر دی۔۔(یہ کہہ کر ہم مسجد کی  طرف چل دیے کے اسی میں اپنی بھلائی تھی!)
مسجد میں پہنچ کر کر دوستوں سے اسطرح کی باتیں ہوتی تھیں کے
 تو نے کتنے سپارے پڑھ لیے،،
ابھی تک صرف سات؟؟؟ ہم تو ایک قران ختم کر چکے ہیں ، تیری پڑھنے کی سپیڈ  بہت سلو ھے یار۔۔
یار تو مجھے دو سپارے پڑھ دے نہ پلیز۔۔
نہیں اوئے ابھی  تو خود بہت سارے پڑھنے ہیں،،
یار تیری سپیڈ بہت فاسٹ ہے پڑھ دے نہ تیرے کونسے پیسے لگنے ہیں!
کمال ہے، اگر ہماری سپیڈ فاسٹ ہے قران پڑھنے کی تو کیا اسکا یہ مطلب کے ہم پورے گاؤں والوں کو پڑھ کر دیں!!
نہیں یار میں نے کب کہا کے سارے گاؤں والوں کو پڑھ کے دے؟ مجھے صرف دو سپارے پڑھ دے بس۔۔
لاحول والا ۔‌
۔ نیکی کا زمانہ ہی نہیں۔۔قران مجید  پڑھنے کی تلقین کرو تو آگے سے الزام تراشیاں شروع کر دیتے ہیں۔۔(یہ کہہ کر ہم مسجد سے گھر کی  طرف چل دیے کے اسی میں اپنی بھلائی تھی!)
گھر میں پہنچتے تو افطاری کی تیاری ہو رہی  ہوتی۔عصر سے مغرب کا وقت شدید صبرو تحمل کا متقاضی ہوتا۔خیر اللہ اللہ کر کے جب ازان ہوتی تو جان میں جان آتی،سب سے پہلے تو پکوڑں کی شامت آتی،پکوڑوں کی ایسی شامت آتی کے افطاری  میں پیٹھے اپنے سے کسی پڑے کی ڈانٹ سنی پڑھتی۔۔"پہلی دفہ پکوڑے دیکھے ہیں کیا؟؟، اگر بھولے سے کسی نے تمہیں افطاری پر بلا لیا تو وہاں بھی اسی طرح نام روشن کرو گے کیا؟؟ وغیرہ وغیرہ"۔۔اتنی ڈانٹ سننے کے بعد ہم یہ عزم مصمّم کرتے کے آج کے بعد کبھی پکوڑوں کی طرف لپکیں گے نہیں (کم از کم کسی کے سامنے تو بلکل نہیں)۔۔لیکن اس عزم مصمّم کا بھی وہی حال ہوتا جس کا زکر میں اوپر کر چکا ہوں۔
ہمارے چھوٹے بھائی ہم سے بھی زیادہ پکوڑوں کے بارے میں "کائیاں" واقع ہوئے تھے۔جب پکوڑے بنتے تو وہ اُس وقت ہی وہاں طواف کی مانند چکر لگانے شروع کر دیتے  نتیجہ یہ نکلتا کے افطاری سے پہلے ہی چھوٹے میاں کے پاس ایک عدد پلیٹ پکوڑوں کی جمع ہو چکی ہوتی،اسی پر بس نہیں وہ درانِ افطاری بھی اسٹاک کرنے کی نیت سے پلیٹ پاس رکھتے یا حسب ضرورت اپنے بائیں  طرف والی جیب استعمال کرتے اور اسی مقصد کے لیے کے وہ باقی لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہیں ہمیشہ کونے میں بیٹھنے کو ترجیع دیتے۔
کھانا کھانے کے بعد وہ ہمیں اور دوسرے بہن  بھائیوں کو دکھا دکھا بلکہ  جلا جلا کے پکوڑے کھاتے  اور کبھی کبھار جب پیٹ بھر جاتا تو کمال سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ادھ پکوڑا ہماری طرف بھی اچھال دیتے کے "ہمارے ساتھ رہو گے تو عیش کرو گے"۔۔ موصوف کا یہ سلوک صرف پکوڑوں کیساتھ نہیں تھا بلکہ وہ  "آموں" کے ساتھ بھی یہ حسنِ سلوک روا رکھتے تھے،ایک دفہ مجھے یا د ہے وہ تین آموں سمیت الماری سے بر آمد ہوئے تھے!!
بات پکوڑوں کی نکلی ہے تو دور تلک جائے گی،پکوڑوں سے میں اپنی پرانی اور خاندانی دشمنی دو ہزار پندرہ میں بھی ختم نہیں کر پایا۔افطاری کا اہتمام چونکہ ساتھ مسجد میں ہو رہا ہے اور انتظامیہ میں بھی اپنے ہی بندے ہیں تو ہم بھی  اُدھر ہی افطاری کرتے ہیں، اجتماہی افطاری میں یہ قباحت ہوتی ہے کے ایک پلیٹ میں دو بندوں کو شریک ہونا پڑھتا ہے، خیر ہم کو کیا جتنے بندے مرضی شریک ہوں لیکن مصیبت تب پڑھتی ہیکہ ایک پلیٹ میں محض تین پکوڑے رکھے ہیں اور بندے دو ہیں!! مولانا صاھب اجتماہی دعا بھی کراتے ہیں اور ہم جب دعا کیلیے ہاتھ بلند کرتے ہیں تو  دونوں ہاتھوں کا مناسب فاصلہ رکھتے ہیں تا کہ پکوڑوں کی پلیٹ واضع  نظر آئے اور ساتھ ہی دل سے دعا نکلتی ہے "یا اللہ اِن تین پکوڑوں میں سے کم ازکم دو میرے حق میں قبول فرما اور اگر تینوں میرے حق میں قبول ہو جائیں تو تیرے خزانے میں کیا کمی ہے یا رب "۔۔۔ساتھ ہی ہم پلان بھی بناتے کے سب سے پہلے ایک پکوڑا لینا ہے، پھر ایک دم دوسرا اٹھا لینا ہے اور اگر اتنی دیر تک تیسرا بچ گیا تو اسکو بھی فوری سے بیشتر  'روانہ پیٹ براستہ حلق" کریں گے۔۔بعض اوقات صورتحال اس قدر مایوس کن ہوتی ہے کے پلیٹ میں ایک پکوڑا ہوتا ہے اور دو بندے ،اس پر طرفہ تماشا یہ کے فریق مخالف بھی "پکوڑا پسند" واقع ہوا ہو۔ایسی صورتحال میں ہماری منصوبہ بندی کچھ اسطرح ہوتی ہے کہ پہلی باری کھجور اٹھاتے ہیں تا کے یہ بندہ یہ نہ سمجے کے ہم نے کھبی زندگی میں پکوڑے نہیں دیکھے اور دوسری باری میں پکوڑا اٹھا لیں گے آرام سے۔لیکن ہماری تدبیریں اس وقت الٹ ہو گئی جب فریق مخالف نے پہلی ہی بار پکوڑا اٹھا لیا اور  ہم منہ دیکھتے رہ گئے۔یہ بات ہم پر گراں گزری اور ہم نے ڈپریشن میں آ کر دو گلاس پانی پی لیا جس کا فوری نقصان یہ ہوا کے ہم پکوڑے کے بعد بریانی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے کیوں کے دو گلاس پانی پینے کے بعد پیٹ میں بریانی کی جگہ ہی نہیں بچی تھی ۔۔



خیر بات کہاں سے کہاں چلی گئی، میں بات کر راہا تھا بچپن کے رمضان کی اور اس سے جڑی یادوں کی۔ شروع کے روزں میں ایک مسلئہ  یہ بھی ہوتا کے جوں ہی ہمیں پیاس لگتی تو شیطاں بصورت نفس  آتا اور ہم سے کچھ یوں مخاطب ہوتا۔۔
دیکھ بندے  تو نے صبح کی نماز نہیں پڑھی ہے، تو پھر تیرے روزے کا فائدہ؟۔اللہ کو تیرے بھوکے پیاسے رہنے سے کچھ نہیں غرض! اب تو روزہ رکھ یا نا رکھ ایک ہی بات ہے، جب نماز نہیں پڑھی تو روزہ قبول نہیں اور جب روزہ قبول نہیں تو مفت میں بھوکا پیاسا رہنے کا فائدہ؟؟؟؟
جس دن میں نے نماز نا پڑھی ہوتی اور پیاس شدید ہوتی اس دن نفس کی یہ دلیل کاریگر ثابت ہو جاتی اور میں روزہ توڑ دیتا،اب میں روزہ کیسے توڑتا یہ بھی ایک الگ کہانی ہے۔ جب روزہ توڑنا مقصود ہوتا تو میں پانی کا گلاس لبا لب بھرتا اور غٹا غٹ پی جاتا اور پھر  ایک زور دار  تمانچہ اپنی پیشانی پر رسید کرتا اور با آواز بلند کہتا "اوہ شیٹ"۔۔۔۔تا کہ سارے بہن بھائی سن لیں کے میرا روزہ غلطی سے ٹوٹ گیا ہے پانی پینے سے۔میرا چہرہ غمزدہ دیکھ کر سارے تسلیاں دیتے کے "کوئی بات نہیں  بیٹا اللہ اجر دے گا-اللہ کو تو سب پتہ ہے نہ ۔اپ نے تھوڑا ہی کوئی جان بوجھ کر روزہ توڑ ا ہے ۔۔کل پھر رکھ لینا اور بس "۔اور میں دل ہی دل میں کہتا کے یہی تو مسلئہ ہے کے "اللہ کو تو سب پتہ ہے "۔۔۔۔!!!
بچپن کی شرارتیں جو رمضان میں کی ایک ایک کر کے یاد آ رہی ہیں اگر یوں ہی لکھتا رہا تو بات طول پکڑ جائے گی!بس اتناہی کہوں گا کہ۔۔۔
"یاد ماضی خوشگوار ہے یا رب۔۔
چھین نہ لینا مجھ سے حافظہ میرا۔۔ 

2 تبصرے:

  1. بہت خوب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روزے پکوڑوں کے بغیر افطار ہو جائیں یہ تو ممکن نہیں "روزے اور پکوڑے" تو لازم وملزوم ہیں :)

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. اسلم فہیم صاحب بلاگ پر تشریف آوری اور تبصرے کا شکریہ :)

      حذف کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں