تازہ ترین
کام جاری ہے...
Tuesday, July 10, 2018

بیگمات کے آنسو۔

بیگمات کے آنسو /begmaat k ansoo
بیگمات کے آنسو آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے عیال اور رشتہ داروں پر بیتے کرب ناک و عبرت ناک حالات کا افسانوی مجموعہ ہے۔ خواجہ حسن نظامی نے انتہائی سادہ اور روز مرہ کی بول چال میں یہ حالات و واقعات قلمبند کیے ہیں جس سے بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کے وہ افسانہ نہیں بلکہ آنکھوں دیکھی حقیقت جو وہ اپنے کسی بے تکلف دوست کو سنا رہے ہیں۔
شہزادوں، شہزادیوں اور اْنکے والدین پر تو غدر 1957 میں قیامت صغری بیتی ہے، کہاں وہ نرم و نازک اندام کلیاں جنہوں نے کبھی غیر مرد سے بات تک نہ کی تھی، کبھی گھر سے باہر نا نکلی تھی، کبھی بے پردہ نہ ہوئی تھی، جن کو محل کے اندر ہی دنیا کی ہر آسائش و سہولت میسر تھی، جنکی خدمت کے لیے خادمائیں، کنیزیں ہمہ وقت تیار رہتی تھیں، جو غریبوں میں ہیرے و جوہرات تقسیم کرتیں تھی، جن کے در سے مساکین کو کھانا جاتا تھا، جن کو صبح ہلکے سروں میں گانا بجا کر جگایا جاتا تھا اور جو چھپر کھٹ میں سویا کرتی تھیں، سیج پر انگڑائیاں لیتی تھیں، طشت چوقی استعمال کرتی تھیں، باغ کی سیر کرے کے جی بہلاتی تھیں، اْن پر یہ وقت آیا کے گھر سے بے گھر ہوئیں، در بدر ہوئیں، محل سے نکل کر جھونپڑی میں پہنچیں، پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے نوکرانی بنیں، بھیک مانگی اور کئی تو بھوک کی وجہ سے ہی اجل کو پیاری ہوئیں، جو غیر مرد سے کلام نہ کرتی تھیں اْنکی ردائیں کھینچی گئیں، جو اْنکے وفادار تھے چھوڑ کر بھاگ گئے اور جو گھر کے مرد تھے اٌنکے سامنے زبح کیے گئے، اْنکے لخت جگر اْنکے سامنے گولیوں سے چھلنی کیے گئے اور وہ اپنے لعل سے لپٹ کر رو بھی نہ سکتی تھیں،،،غرض بادشاہ غلام بن گئے اور اْنکی ملکہ نوکرانیاں بن گئی اور اْنکی شہزادیاں مامائیں بن گئیں اور اْنکے گھر و محل تباہ و برباد ہوگئے اور وہ جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے لگے۔ وہ اللہ سے زبان حال سے گلے شکوے کرتیں تھی کے مالک ہم تو ہندوستان کی زمین کے مالک تھے اور اب ہمیں دو گز زمین کیوں نہیں ملتی، ہم تو لوگوں کو دیتے تھے تو نے ہمیں بکھاری کیوں بنا دیا، ایسا کون سا بڑا گناہ کر دیا ہم نے کے ہمارے لیے یہ زمین تنگ ہوگئی اور ہماری رعایہ ہم سے برگشتہ ہو گئی اور ہم زلیل و خوار ہو گئے اور مرنے کے لیے زہر بھی میسر نہیں، ہم تیمور کی اولاد میں سے ہیں ، تیری رھمت کے چرچے ہر سو ہیں تو پھر ہم سے اتنی لاپرواہی کیوں، دلی شہر کے کوّے تو پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہیں لیکن ہندوستان ایسے ملک کے مالک بھوکے سوتے ہیں۔ کیا ہم تیرے بندوں میں شامل نہیں ہیں؟؟
یہ افسانے زوال بیان کرتے ہیں بادشاہ وقت اور اْنکے خاندان کا کے شائد کوئی پڑھے تو عبرت پکڑے،، ایک چھوٹا سا اقتباس حاضر خدمت ہے۔
"تقدیر ان کو ٹھوکریں کھلاتی ہے جو تاج وروں کو ٹھوکریں مارتے تھے۔قسمت نے ان کو بے بس کر دیا جو بے کسوں کے کام آتے تھے۔ ہم چنگیز کی نسل سے جسکی تلوار سے زمین کانپتی تھی۔ ہم تیمور کی اولاد ہیں جو ملکوں کا اور شہر یاروں کا شاہ تھا۔ہم شاہجاں کے گھر والے ہیں جس نے ایک قبر پر جواہر نگار بہار دکھا دی اور دنیا میں بے نظیر مسجد دہلی کے اندر بنا دی۔ ہم ہندوستان کے شہنشاہ کے کنبے میں ہیں۔ ہم عزت والے تھے اور زمین میں ہمیں کیوں ٹھکانا نہیں ملتا، وہ کیوں سر کشی کرتی ہے۔ آج ہم پر مصیبت ہے آج ہم پر آسمان روتا ہے" ۔

بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی بیٹی کلثوم زمانی بیگم کا ظاہری حلیہ غدر میں ایسا ہوا کے کسی نے پوچھا کے 'تم کس پنتھ کے فقیر ہو؟"۔۔۔۔۔۔!! زخمی دل سے وہ گویا ہوئیں
" ہم مظلوم شاہ گرو کے چیلے ہیں- وہی ہمارا باپ تھا وہی ہمارا گرو۔ پاپی لوگوں نے اس کا گھر بار چھین لیا اور ہم کو اْس سے جدا کر کے جنگلوں میں نکال دیا۔ اب وہ ہماری صورت کو ترستا ہے اور ہم اس کے درشنوں بغیر بے چین ہیں"۔

اْونچے مکاں تھے جن کے بڑے            آج وہ تنگ گور میں ہیں پڑے
عطر مٹی کا جو نہ ملتے تھے              نہ کھبی دھوپ میں نکلتے تھے
گردش چرخ سے ہلاک ہوئے              استخواں تک بھی ان کے خاک ہوئے
زات معبود جادوانی ہے                 
 باقی جو کچھ کہ ہے وہ فانی ہے             

0 تبصرے:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں