تازہ ترین
کام جاری ہے...
جمعرات، 23 اکتوبر، 2014

اے شیخ الاسلام آپ کب سمجھیں گے !

یہ سولہ اگست کی صبح تھی میں حسب معمول جاگ کر فجر کی نماز کے لئے مسجد گیا اور وہاں ایک لمبی لائن دیکھ کر دنگ رہ گیا .مجھے سمجھ نہ لگی کے یہ کون لوگ ہیں .ظاہری شکل و صورت میں خانہ بدوش لگ رہے تھے ،قریب جانے پر پتا چلا کے یہ پاکستان عوامی تحریک کے کارکن ہیں !!
یہ انقلابی ٹولہ دھرنے میں آیا تھا اور اب یہ لوگ قطار میں لگ کر مسجد کی بیت الخلا میں جانے کے لئے اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں .اتنی لمی قطار یوٹیلٹی سٹور کے سامنے چینی لینے والوں کی نہیں ہوتی جتنی ان انقلابیوں کی بیت الخلا میں جانے کے لئے لگی ہوئی تھی .
یہ لوگ صبح سے شام تک قطار میں لگے رہتے ،جو صبح آتا اسکی بری دوپہر تک آ جاتی .بیت الخلا سے فارغ ہونے کے بعد یہ لوگ قریبی ہوٹل میں کھانا کھاتے اور پھر دوبارہ آ کر قطار میں لگ جاتے کیوں کے جتنی دیر میں دوبارہ باری آنی ہوتی اتنی دیر میں دوبارہ رفع حاجت کی ضرورت بھی محسوس ہونے لگتی..سو یہ لوگ سمجدار تھے قطار میں لگتے ،فارغ ہو کر کھانا کھاتے اور پھر آ کر قطار میں لگ جاتے ..
یہ حال تو مرد حضرات کا تھا خواتین کی حالت سے بھی زیادہ پتلی تھی وہ بیچاری مساجد میں مردوں کے ساتھ قطار میں تو نہ لگتی لکین مجبور ہو کر اهل محلہ کے دروازے کھٹکھٹاتی!!!!!
ایک صاھب ہمارے کوارٹر میں بھی آے ،رفع حاجت کے بعد ہمیں ڈھیروں دعاؤں سے نواز کر چلتے بنے ،تھوڑی دیر بعد پھر واپس آے ایک اور حاجت مند کو لے کر ،پھر دعائیں دی اور چلتے بنے ،پھر لوٹ آے لکین اب کی بار انکے ساتھ تین نوجوان لڑکیاں بھی تھی !! کہنے لگے "یہ میری بیٹیاں ہیں بس آخری بار ہے اب دوبارہ نہیں آئیں گے "...
وہ تو بھلا ہو امام صاھب کا جنہوں نے خواتین کے تقدس کا خیال رکھتے ہوئے مدرسے کے گیٹ کھول دیے تا کہ انقلاب کی آرزو میں سر بازار پھرتی ان انقلابی خواتین کو سر چھپانے کی جگہ مل سکے ،محلے کے ایک اور صاھب نے کمال فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے گھر کی ایک بیت الخلا کا دروازہ خواتین کے لئے کھول دیا جس پر خواتین نے سکھ کا سانس لیا .
یہ میں نے اپ کے سامنے انقلابی مرد و خواتین کی ایک آنکھوں دیکھی مشکل بیان کی ہے ان بے چاروں نے ماڈل ٹاون سے ڈی چوک تک ایسی بیسوں مشکلات اور پرشانیاں دیکھی ہیں جو یہ لوگ خود سے بھی بیان کرتے ہوئے شرما جائیں .یہ لوگ لوٹنے پوٹتے ،مصیبتوں کے پہاڑ جھیلتے ،بھوک پیاس کاٹتے ڈی چوک پنچے اور چونسٹھ دن انقلاب کی آرزو میں صبر و استقامت کی چٹانیں بن کر پارلیمنٹ کے سامنے خیمہ زن رہے .یہ انقلاب کے متمنی وہاں بارش میں بھی بیٹھے رہے اور دھوپ میں بھی ،یہ وہاں بدبو اور تعفن میں بھی بیٹھے رہے ،یہ وہاں اپنے گھر بار اور مال مویشی ،نوکری اور کاروبار چھوڑ کر بھی بیٹھے رہے ..
شیخ الاسلام اپنے بلٹ پروف کنٹینر سے نکلتے ،اپنی جھلک دکھلاتے ،ہاتھ ہلاتے ،ناک پر رومال رکھ کر ایک عدد تقریر جھاڑتے اور پھر واپس کنٹینر میں چلے جاتے ..شیخ الاسلام نے کبھی یہ معلوم کرنے کی کوشش نہ کی کے میرے جانثاروں اور مریدوں پر کیا بیت رہی ہے .مجھے دیکھ کر جن میں بجلی سی کوند جاتی ہے ،میرے ہاتھ ہلتے دیکھ کر جو فرط جذبات سے مغللوب ہو کر نعرے لگانے لگتے ہیں ،میرے ایک اشارے پر جو اپنی جان تک قربان کرنے کے لئے تیار ہیں آخر کیا وجہ ہے کے جب میں کنٹینر میں واپس جاتا ہوں تو یہ کھلے چہرے مرجھا جاتے ہیں
آج جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں شیخ الاسلام نے دھرنا ختم کر کے واپس جانے کا علان کر دیا ہے .آج اخبارات کی شہ سرخیوں میں ایک منظر ہے ،خواتین کا منظر ! لیکن اب کی بار حوا کی بیٹیاں قطار میں لگ کر واش روم جانے کا انتظار نہیں کر رہی بلکے ایک دوسرے کے گلے لگ کر رو رہی ہیں ..ان کی سسکیوں اور آہوں میں شیخ الاسلام کی آواز گونج رہی ہے  
ہم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے ،انقلاب آ گیا ہے ،پاکستان عوام بیدار ہو چکی ہے ،تاجدار مدینہ کے نعلین پاک کی قسم میں نے کوئی ڈھیل نہیں کی ..خدا کی قسم ..
وہی نعرے ،وہی پرانے وعدے ،وہی قلابازیاں ،وہی فریب کاریاں ،وہی جھوٹی تسلیاں !!اے شیخ الاسلام اپ کب سمجھیں گے ؟؟؟؟؟
                                                                                           

2 تبصرے:

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں