تازہ ترین
کام جاری ہے...
سوموار، 27 اپریل، 2015

سوجی ملک سینٹر

رواں ہفتے  کی مصروفیت میں نیشنل بک فائونڈیشن کی طرف سے منعقد کردہ بک فئیر اور اکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی طرف سے منعقد کردہ لٹریچر فیسٹیول  میں شرکت شامل رہی،انکا احوال پھر سہی لیکن سب سے اہم مصروفیت حسن ابدال میں بھائی جان کی دستار بندی کے موقعے پر ہونے والی ختم بخاری شریف کی بابرکت محفل میں شرکت تھی۔صبح ساڑھے اٹھ بجے اسلام آباد سے روانگی ہوئی تو امید تھی کے دس بجے پہنچ جائیں گے لیکن "امید بر نہیں آئی" اور ہم تین مختلف گاڑیاں  بدلنے کے باوجود گیارہ بجےحسن ابدال پہنچے۔ منڈی موڑ سے آگے ایک چھکڑا  سی بس میں بیٹھ گئے اور نتیجے میں اتنے "جھولے اور جھٹکے" کھائے  کے بے ساختہ ہمیں مرزا  مرحوم کی سائیکل یاد آگئی! بس فرق یہ تھا کے مرزا کی سائیکل پر صرف مرزا ہی تخت مشق بنے ہوئے تھے جبکہ اس بس میں تو پورے کے پورے چالیس سوار "اوپر نیچے" ہو کر سیٹ سٹینڈ کا سماں پیدا کر رہے تھے۔
آخر کو جب حسن ابدال قریب آیا تو کنڈ یکٹرنے کہا کدھر اترنا ھے؟ ایبٹ آباد موڑ یا آگے؟
"جی نہیں، ہم نے سوجی  ملک سینٹر اترنا ہے"۔۔میں نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے۔
ہیں؟ کنڈیکٹر بھونکچا رہ گیا۔۔ "یہ کونسی جگہ ہے"،،
 "ہم نے فوجی ملک سٹاپ اترنا ہے"پیچھے سے والد صاحب نے تصیح کی ۔
خیر جب ہم سٹاپ پر اترے تو اگلا کام 'مرکز حافظ الحدیث' کو ڈھونڈنا تھا جس میں ہم کو ایک گھنٹہ اور لگنا تھا لیکن بھلا ہو کزن کا وہ راستہ دکھانے والے فرشتے کی طرح نمودا ہوئے اور راستہ دکھا کر فرشتے کی طرح ہی غائب بھی ہو گئے۔مرکز درخواستی پہنچے توگندم کے لہلاتے کھیتوں نے نے ہمارا استقبال کیا،غالباً وہ کھیت ہوا کی وجہ سے رقص کناں تھے لیکن ہمیں یہی لگا کے گندم کی بالیاں ہمیں دیکھ کر خوشی سے شاداں ہیں۔جلسہ کی کاروئی جاری تھی اور مولانا الیاس گھمن بھی تشریف لا چکے تھے جنہوں نے بعد میں اپنی تقریر کے دوران بتایا کے وہ پرسوں کراچی تھے پھر کال حیدرآباد میں تھے اور شام کو سکھر میں تھے صبح پھر کراچی تھے اور ابھی دن کو وہ اِدھر اسلام آباد میں ہیں اور شام کو ملتان میں ہوں گے ،مطلب وہ مولانا نہ ہوئے جہاز ہوئے!
درمیان میں وفاقی وزیر سردار یوسف نے بھی اپنا دیدار کرایا ،وہ قراقلی ٹوپی پہنے "قلی" لگ رہے تھے،بعد ازاں انہوں نے اپنی وزارت کی "نہ کردگی" پر روشنی بھی ڈالی۔
 سب سے آخر میں حضرت عبدللہ درخواستی کے جانشین حضرت فداللہ درخواستی نے بخاری شریف کی آخری حدیث کا پرتاثیر درس دیا۔پھر بمطابق دستور فضلاءکرام کی دستار بندی کی گئ اور پھر حسب توقع کھانا کھلنے کا علان کیا گیا جس کا   ہم انتطار کر رہے تھے!
ہم چونکہ خوّاص میں شامل تھے اسلیئے عوام سے علیحدہ کر کے ایک اور جگہ لے جائے گے جہاں دسترخان بے چینی سے ہمارا انتطار کر راہا تھا۔ اور اپکو تو پتہ ھے ھم زیادہ دیر کسی کو انتطار نہیں کرواتے،سو جھٹ آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے اور اشارے کا انتطار کرنے لگے کے کب باقی مہمان بھی کھانا شروع کریں اور ہم بھی موقع سے فائدہ اٹھا سکیں، یقیں جانیں یہ انتظاراس انتظار سے بھی مشکل اور سخت جان ہوتا ہے جو محبوب اپنی روٹھی محبوبہ کے لیے کسی پارک میں کرتا ہے!
خیر دسترخوان پر ہماری خوب تواضع کی گئی جسکا ہم نے ناجائز فائدہ اٹھایا اور اتناکھایا کہ اخر میں اٹھا نہیں جاراہا تھا،جب سب اٹھ گئے تو چاروناچار ہم بھی اپنے دوست کے سہارے اٹھ کھڑے ہوئے  کیونکہ دسترخوان پر یبٹھے رہنے کا مطلب تھا کہ ابھی ہم اور بھی کھائیں گے! ہمارے روم میٹ کی حالت تو ہم سے بھی پتلی تھی وہ موصوف کھانا کھا کے جیسے کے تیسے اٹھ تو گئے لیکن چل نہیں سکتے تھے تو ہال میں جا کر  لیٹ گئے، ہم نے موقع کو غنیمت جانا اور جلدی سے موبائل نکال کرتصویر کھنچا ہی چاہتے تھے کے وہ ہماری چلاکی کو بھانپ گئے اور  بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اٹھ بیٹھے کیوں کے یہ عزت کا مسلئہ تھا اور میں نے تصویر فیس بک پر اپلوڈ کر دینی تھی۔
اب جب واپسی کا قصد کیا تو فیصلہ ہوا کے "کھایا پیا" ہضم کرنے کے لیے کم ازکم ایک کلو میٹر پیدل چلنا چاہیے،سو ہم نے مرکز درخواستی سے فوجی ملک سٹاپ اور پھر وہاں سے ایبٹ آباد موڑ تک پیدل چل کے اپنے "واک دوست" ہونے کا ثبوت دیا۔ آتے ہوئے بس میں سفرکا جو تجربہ ہوا تھا اس کی روشنی میں ہم نے واپسی کے لیے ویگن کا انتخاب کیا اور پرسکون سفر کر کے اسلام آباد پہنچے۔
فوجی ملک سٹاب سے پیدل چلتے وقت دیوار پر لکھا شعر میں ہمارے زہن کے کسی گوشے میں محفوظ رہ گیا،گو کے اس تحریر سے اسکا خاص تعلق تو نہیں پھر بھی آپ پڑہیے ،سر دھنیے اور ہو سکے تو عمل بھی کیجیے۔

شریک حیات چننا ہو تو 'اصل' کو دیکھتے ہیں۔
کتا بھی پالنا ہو تو 'نسل' کو دیکھتے ہیں-

ایک تبصرہ:

  1. یہ تبصرہ بلاگ کے ایک منتظم کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں