تازہ ترین
کام جاری ہے...
Friday, May 25, 2018

عبدللہ

عبدللہ مجھے میرے دوست ہانی نے ریکمنڈ کیا تھا،، ساتھ ساتھ حماد بھی پڑھ راہا تھا اور جواد بھائی نے بھی تعریف کی تھی تو میں نے پڑھ لیا، بس پڑھا کیا گزارا جیسے تیسے کر کے۔ شروع شروع میں تو مجھے لگا کے میں یہ مکمل نہ کر پاؤں گا پر پھر جی پر پھتر رکھ کے پڑھ ہی لیا۔نا جانے کیوں مجے ہاشم ندیم کے لکھنے کا سٹائل انتہائی بچگانہ یا "ایم میچیور" لگا ،، ایسا محسوس ہوتا تھا کے بس الفاظ کی گھمن گھیری ہے اور ایک نارمل سی بات کو بھی ضخیم لفظوں میں چھپا کر بامعنی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پورے ناول میں بمشکل تین یا چار دفعہ کچھ سسبپنس پیدا ہوا وہ بھی تھوڑی دیر کے لیے۔ عبدللہ ایک لڑکی کا عاشق ہو جاتا ہے اور وہ لڑکی کسی دوسرے عبد للہ کی اور پھر مصنف اّس لڑکی کو پانے کے لیے ایک سفر کرتا ہے جس مین اٌسے پراسرار قوتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے،،، اور آخر میں تھوڑا سا جزباتی ڈرامہ کر کے وہ لڑکی پھی مل ہی جاتی ہے اْسے۔۔۔مصنف درمیان میں ایک عام سے بات کو لے کر تین صفحے لکھ دیتا ہے محسوس ہوتا بس صفحوں کی تعداد بڑھانی ہے۔لوگ کہتے ہیں کے یہ عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر تھا، کمال ہے مجھے تو پورے ناول میں یہ بات محسوس نہیں ہوئی۔ (ایک دفہ پڑھتے پڑھتے میں نے اس ناول کو زور سے اپنی میز پر پٹخ دیا تھا کے کیا فضول وقت ضائع کر راہا ہوں میں)۔


0 تبصرے:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں