تازہ ترین
کام جاری ہے...
Tuesday, May 29, 2018

اور اْوکھے لوگ

اور اوکھے لوگ میں ممتاز مفتی نے 22 لوگوں کے بارے میں لکھا ہے جو زندگی کے مختلف مہہ و سال میں اْنکے قریب رہے، شروع میں پروین الطاف نے جو ممتاز مفتی کا تعارف لکھا ہے وہ ممتاز کی شخصیت کے مختلف مگر دلچسب پہلو سامنے لایا ہے،، ان 22 لوگوں میں تقریباً سارے ہی ادیب یا صحافی لوگ ہیں، اشفاق احمد، بانو قدسیہ اور احمد بشیر کا دلچسب خاکہ کھنچا گیا ہے، قدرت اللہ شہاب پر لکھی گئی تحریر پڑھ کر آپ چونک پڑتے ہیں اور آپ میں بھی قردت اللہ شہاب کے بارے میں جاننے کا تجسس پیدا ہوتا ہے۔۔ تقریباً سبھی لوگوں کے بارے میں ممتاز نے لکھا ہے کہ وہ اْوپر سے کچھ نطر آتے ہیں اور اندر سے کچھ،، مثلاً اشفاق احمد کے بارے میں لکھتے ہیں کے یہ خاموش خاموش اور کتابوں میں گھرا رہتا ہے لیکن اوپن تھیٹر پہنچ کر اْسکا ڈارمے باز باہر نکل کر رنگ رلیاں مناتا ہے۔
ممتاز مفتی کے بقول ہر شخص کے اندر ایک سئور تھوتھنی لیے کھڑا ہوتا ہے لیکن یہ حرکت میں تب آتا ہے جب ماحول اسکے لیے سازگار ہو۔ کتاب میں کچھ ایسے لوگوں کا زکر بھی ہے جن کا نام شائد آپ نے آج سے پہلے نا سنا ہو مثلاً عزیز ملک،ثاقبہ رحیم الدین، فکر تونسوی اور پرتو راہیلہ وغیرہ۔ لازمی نہیں ہیکہ جن شخصیات کے بارے میں ممتاز مفتی نے لکھا ہے وہ ادب میں اعلی مقام پر فائز ہوں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ممتاز مفتی نے قریب سے دیکھا اور پرکھا ہے۔
وضاحت بشکریہ سلمان بھائی،
"ثاقبہ رحیم الدین بچوں کی ادیبہ ہیں۔ فکر تونسوی بھارت کے لکھاری ہیں اور تقسیم سے قبل مفتی جی کے قریبی دوست رہے۔ پرتو روہیلہ کے پی کے سے مشہور شاعر ہیں "
aur okhay log/اور اوکھے لوگ
اور اوکھے لوگ/aur okhay log

0 تبصرے:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں