تازہ ترین
کام جاری ہے...
جمعہ، 17 جولائی، 2015

لیلتہ الجائزہ اور چاند رات

ہمارے ہاں بلخصوص پچھلے کچھ سالوں میں چاند رات کو بطور فیشن بنایا جانے لگا ہے۔خواتین ھر صورت چاند رات کو ہی گھر سے نکل کر شاپنگ کریں گی اور نوجوان طبقہ ون ویلنگ اور اسطرح کی دوسری خرافات میں مصروف نظر آئے گا۔اول زکر یعنی چاند رات کے دن خواتین کی شاپنگ میں بظاہر کوئی شرعی قید نہیں ہے لیکن اس میں کچھ قباحتیں ضرور ہیں مثلاً عموماً چاند رات والے دن بازاروں میں اتنا رش ہوتا ہے کے تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی اور چونکہ زیادہ تر بازار میں مرد حضرات اور خواتین اکھٹی ہوتی ہیں اس لیے خوب بے پردگی کا اندیشہ ہے حتی کے با پردہ خواتین بھی رش اور ہجوم میں دھکے کھا کر اپنی عزت نفس کو مجروع کرنے کا سامان پیدا کرتی ہیں۔ نیا نیا نوجوان طبقہ بازار میں چاند رات کو جاتا اسی لیے ہے کے اپنی انکھوں کی پیاس بجھا سکے اور اگر ممکن ہو تو دھکم پیل کا فائدہ اُٹھا کر نوجوان لڑکیوں کو چھو بھی جا سکے (میں اس بات کا خود گواہ ہوں کے لڑکے باقاعدہ ٹولی بنا کر اور پلاننگ کر کے جاتے ہیں)۔۔
بعض خواتین تو اپنے ہاتھوں پر مہندی لگوانے کے لیے یا چوڑیان پہنے کے لیے اپنے ھاتھ نامحرم کے ہاتھ میں دینے سے بھی گریز نہیں کرتی شائد انہوں نے یہ حدیث مبارکہ نہیں پڑھی۔۔معقل بن یسار سے روایت ہیکہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کے
تم میں سے کسی کا سر لوہے کے کیل سے پھاڑ دیا جانا،یہ اس کے لیے کسی غیر محرم عورت (یا مرد) کو چھونے سے بہتر ہے  (متفق علیہ)
دوسری قباحت یہ ہے کے چاند رات والے دن عام طور پر دس روپے والی چیز پچاس روپے کی بِک رہی ہوتی ہے اور چونکہ یہ چاند رات کی شاپنگ فیشن بن چکا اس لیے سفید پوش خوتین بھی آتی ہیں اور اپنے میاں کی آدھی تنخواہ لٹانے کے بعد گھر جاتے ہوئے حکومت اور تاجروں کو 'کوسنے' دے رہی ہوتی ہیں ۔
اب آ جاتے ہیں تیسری اور سب سے بڑی قباحت کی طرف اور وہ ہے لیلتہ الجائزہ کی نا قدری!! ہم میں سے ہر ایک رمضان میں نیک اعمال کرتا ہے۔وہ آدمی بھی جو سارا سال منافع خوری کرتا ہے وہ آدمی بھی جو سارا سال غریبوں کا حق دبا کر بیٹھا رہتا ہے وہ آدمی بھی جو سودی کاربار کرتا ہے اور وہ آدمی بھی جو یتیموں کا مال کھاتا ہے اس مبارک مہینے میں کوشش کرتا ہے کے اپنی غلطیوں پر نادم ہو کراللہ کو رازی کر لوں، ہر کوئی غیبت ،جھوٹ، چوری اور ہر برائی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور ہر اچھائی کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن آخر میں جب ان ساری نیکیوں کا صلہ لینے کا وقت آتا ہے تو یہ چاند رات کی خرافات میں کھویا ہوتا ہے،،اس کو پتہ ہی نہیں ہوتا کے آج کی رات اللہ کی طرف سے مغفرت کا پروانہ ملنا ہے اور اگر رمضان میں کوئی نیک عمل نہ کر سکا تھا تو اس رات کو ندامت کے آنسو بہانے سے اللہ کی رحمت و مغفرت پا سکتا ہے۔ لیکن کیا کریں چاند رات کی خوشی میں لیلتہ الجائزہ چھپ جاتی ہے جس کو حدیث مبارکہ میں "انعام کی رات" کہا گیا ہے یعنی اس رات اللہ اپنے بندوں کو انعام و اکرام سے نوازتے ہیں۔
احادیث میں اس رات کی فضیلت بیان کی گئی جسکا مفہوم ہیکہ " رمضان کی ہر رات میں اتنے لوگ کو جہنم کی آزادی کا پروانہ ملتا ہے جتنا کے قبیلہ بنو بکر کی بکریوں کے اوپر بال ہوتے ہیں اور رمضان کی آخری رات (یعنی لیلتہ الجائزہ) میں تمام رمضان سے بھی زیادہ لوگوں کو جہنم سے چھٹکارا ملتا ہے"۔۔
ایک اور حدیث میں حضرت امامہ سے مروی ہیکہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا،
جو شخص عید الااضحیٰ اور عید الفطر کی راتوں میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے عبادت کرتا ہے اُسکا دل (قیامت کے ہولناک اور وحشت ناک) دن بھی نا مرے گا جس دن لوگوں کے دل (دہشت و گھبراہٹ کی وجہ سے) مردہ ہو جائیں گے (ابن ماجہ،کتاب صیام،بات فیمن قام فی لیلتہ العیدین 1782)
اب یہ ہم پر منحصر  ہے کے ہم چاند رات کی خوشی میں اس خوشی کو بھول جائیں جو ہمیں ہمارا رب رمضان کے انعام میں دینا چاہتا ہے یا چاہیں تو اس رات کو عبادت کر کے اپنے لیے سامانِ آخرت کے ساتھ ساتھ  روحانی خوشی کا بھی اہتمام کر لیں!

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں