تازہ ترین
کام جاری ہے...
سوموار، 20 جولائی، 2015

اے ویلکم بیک پارٹی ٹو شیطان

رمضان آتا ہے تو شیطان جھکڑ دیا جاتا ہے اور ہم دل کھول کر اللہ کی عبادتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ کوئی تلاوت کر راہا ہوتا ہے تو کوئی نوافل کی آدائیگی میں مصروف نظر آتا ہے۔کوئی زکر کر راہا ہے تو کوئی اسلامی بیان یا نعتیں سن راہا ہوتا ہے 

غرض ہر کوئی کسی نہ کسی عبادت میں مصروف عمل ہوتا ہے۔ یہی حال ہمارے میڈیا کا ہوتا ہے کے ایک سے بڑھ کر ایک اسلامی پروگرام، دین کے مسائل پر مبنی گفتگو اور اسلامی معلوماتی شوز، ماڈلز اور اداکار سر پر ٹوپیاں رکھے روزے کی فضیلت بیان کر رہے ہوتے ہیں اور خواتین ایکٹریس سر پر دوپٹا اوڑھے شرم حیا کے بابت بیان کر رہی ہوتی ہیں۔۔
 ہمارے معاشرے میں بھی کسی حد تک سدھار پیدا ہو جاتا ہے۔ جو سال بھر زکوۃ نہیں دیتے وہ زکوۃ کے ساتھ ساتھ صدقہ و خیرات کر راہے ہوتے ہیں۔مسجدیں نمازیوں سے بھری ہوتی ہیں اور لوگ ایک دوسرے کا احترام کرنے لگتے ہیں۔راستے میں کوئی مل جائے تو خوب خوش اخلاقی سے ملتے ہیں اور یہ بھی پوچھتے ہیں لازمی کے " بھیا روزے کیسے گزر رہے ہیں۔پیاس تو نہیں لگ رہی "۔۔۔اگر کوئی ساحل دروازے پر دستک دے تو حتی الا امکان یہی کوشش ہوتی ہے کے وہ خالی ہاتھ نا لوٹے۔۔
لیکن جوں ہی عید کا چاند نظر آیا یعنی چاند رات آن پہنچی تو بس پھر اللہ کی پناہ۔لگتا ہے رمضان میں شیطان نہیں یہ بندہ قید تھاجو رمضان کے ختم ہوتے ہی آزاد ہو گیا ہے۔

کوئی بجرنگی بھائی جان دیکھنے جا رہا ہے تو کوئی رقص کی محفل سجانے۔کوئی کانوں میں ہیڈ فون لگا کر میوزک پر دھمال ڈال رہا ہے تو کوئی در پر آئے ساحل کو جھڑک رہا ہے۔کوئی یتیم کا مال کھا رہا ہے تو کوئی پڑوسی کی جایئداد پر قبضے کا پلان بنا رہا ہے۔اور جوان جو آخری عشرے میں اعتکاف پیٹھے تھے وہ اب پارکوں ،بازاروں اور پبلک مقامات پر "انکھوں کی پیاس " بجھانے میں مصروف نظر آتے ہیں!! اور میڈیا میں میں شرم و حیا کا درس دینے والیاں نیم عریاں لباس میں ناچ ناچ کر چاند رات اور عید مبارک کہہ رہی ہوتی ہیں۔
وجہ؟ کیوں کے ہمارا لیڈر شیطان ہے۔ کیسے؟ یہ مثال ملاحظہ کریں جو میں نے کسی مولوی صاھب سے سنی تھی۔

"عموماً یہ ہوتا ہے کے اگر کوئی سیاسی لیڈر کسی کیس میں جیل کے اندر چلا جائے تو اُسکے سارے سیاسی حمایتی اور کارکنان بھی جیل کے سامنے پہنچ کر دھرنا دے دیتے ہیں اور تعرے بازی شروع ہو جاتی ہے کے جب تک ہمارے لیڈر کو نہیں چھوڑا جائے گا ہم دھرنا دے کر بیٹھیں رہیں گے اور بلا آخر ھکومت اُن کے لیڈر کو چھوڑ دیتی ہے اور وہ اُس کے گلے میں ہار ڈالتے ہیں ،پتیاں نچھاور کرتے ہیں اور راستے میں پھول بچھا کر ایک قافلے کی صورت میں اُسکا استقبال کرتے ہیں۔
بلکل یہی صورتحال ہماری بھی ہے۔ہم میں سے اکثر نے شیطان کو اپنا لیڈر بنایا ہوا ہے اور جب ہمارے لیڈر کو رمضان کے شروع میں اللہ تعالی قید کرتے ہیں تو ہم اُسکے چیلے اور کارکنان اللہ کی بارگاہ میں دھرنا دے کر بیٹھ جاتے ہیں۔خوب عبادتیں کرتے ہیں ۔مساجد میں جگہ نہیں ملتی اور ہماری آہ و زاری اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ہمارا یہ دھرنا تب تک جاری رہتا ہے جب تک ہم اللہ سے اپنے لیڈر شیطان کو چُھڑوا نہ لیں۔جوں ہی چاند رات ہمارے لیڈر کو رہائی ملتی ہے ہم "دھرنا" ختم کر دیتے ہیں اور مساجد خالی ہو جاتی ہیں!!! صرف اسی پر بس نہیں جس طرح سیاسی لیڈر کو واپسی پر قافلے کی صورت میں پھولوں کے ہار ڈال کر واپس لا کر "ویلکم بیک پارٹی" دی جاتی ہے بلکل اُس طرح ہم اپنے لیڈر کو اللہ کی نافرمانیاں کر کر کے "ویلکم بیک پارٹی" دیتے ہیں!! ایسی ایک ویلکم بیک پارٹی اے آر وائی نیوز اور دوسرے چینلز نے بھی دی ہے۔اپ بھی دیکھیں۔ ویلکم بیک ڈیر ڈیول۔

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں