تازہ ترین
کام جاری ہے...
اتوار، 19 جولائی، 2015

کمال بمقالہ مہا کمال

ہفتہ پہلے مجھے کسی کام سے راولپنڈی جانا پڑا، میٹرو بس کا روٹ اور اس پر ہر دو منٹ بعد گزرتی بس وقعی میں ایک حسین نظارہ پیش کر رہی تھی۔ میں اسی نظارے میں محو تھا کہ اچانک نظر وہاں لٹکتی تاروں پر پڑھی جن سے پتنگ لٹک رہے تھے۔بجلی کے کھمبے لگتا تھا ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں یا غالباً ایک دوسرے سے گلے مل کر عید کی مبارکی دے رہے تھے۔ ساتھ ہی نیچے گندگی کے ڈھیر تھے جن کو غریب کے بچے الٹ پلٹ رہے تھے کے ہو سکتا ہے اس میں سے کوئی کام کی چیز یا کھانے کی ہی کوئی چیز مل جائے، ساتھ سڑک پر من چلے ون ویلنگ کر رہے تھے اور ہمیشہ کی طرح جاہل عوام بجائے کے پل سے سڑک کراس کریں پیدل ہی کراس کر رہے تھے۔
میاں صاحب سے عرض ہیکہ میٹرو آپ نے بنائی کمال کیا لیکن اگر آپ راولپنڈی کی صفائی ستھرائی کا بھی کوئی اچھا سا نظام بنا دیں تو یہ "مہا کمال " ہوگا۔نکاسی آب کے نظام کو اس قابل بنانا کے زیادہ سے زیادہ بارش کا بوجھ بھی برداشت کر سکے کونسا بڑی سائنس ہے؟ راولپنڈی کی کوئی میونسپل اٹھارٹی بھی ہے اگر وہ صفائی کا خیال نہیں رکھتی تو اٗس کو کوئی پوچھنے والا بھی ہے؟ بجلی کی لٹکتی تاریں جو آئے روز قیمتی جانوں کے نقصان کا باعث بنتی ہیں کیا اُن کو زیر زمین نہیں کیا جا سکتا؟ لاہور میں تو سنا ہے آپ نے استنبول کی کسی کمپنی سے معاہدہ کیا ہے صفائی اور نکاسی آب کا جدید نظام بنانے کے لیے کیا کوئی ایسا معاہدہ راولپنڈی شہر کے لیے بھی زیر غور ہے؟ اسی ناقص نظام کی وجہ سے جب کھبی بارش ہوتی ہے تو کھبی نالہ لئی قابو نہیں آ رہا ہوتا تو کھبی گٹر اُبل اُبل کر باہر آ رہے ہوتے ہیں اور اپکی شاندار گورننس کا رونا رو رہے ہوتے ہیں!!
۔ صفائی اور نقاسی آب کے ایک جدید اور بہترین نظام پر کتنے پیسے لگ سکتے ہیں؟ کم از کم اسلام آباد راولپنڈی کی میڑو کی بجٹ سے کم ہی لگیں گے تو پھر لگا کیوں نہیں دیتے؟ دس اور میٹرو بنا لیں آپ جب تک اپ صفائی کا کوئی معیاری نظام نہیں بناتے تب تک راولپنڈی شہر اسی طرح گندگی سے اٹا رہے گا اور پھر جب اس گندگی کی وجہ سے کوئی وبائی بیماری پھیلے گی جیسا کے ڈینگی تو پھر آپ "سپرے پمپ " لے کر ٹائروں میں گھسے ہوں گے ۔
سوشل میڈیا پر مسلم لیگی ٹیم نے بھی عجیب وطیرہ اپنا رکھا ہے۔لاہور یا پنڈی میں بارش کی وجہ سے اگر گلیاں تالاب کا منظر پیش کریں تو جھٹ سے یہ لنڈن یا نیو یارک کی پانی سے بھری گلیوں کی تصاویر لگا کر کہتے "دیکھو جی قدرتی آفات کا مقابلہ تو ترقی یافتہ لوگ بھی نہیں کر سکتے" ۔۔۔اللہ کے بندو وہاں گلیاں اور سڑکیں پانی سے تب بھرتی ہیں جب بہت غیر معمولی صورتحال ہو۔۔اِدھر تو ایک دن بارش ہو جائے تو لوگوں کو اپنے گھروں تک جانے کے لیے "میٹرو کشتیاں " استعمال کرنی پڑتی ہیں اور تین تین دن بارش ہونا معمول کی بات ہے۔۔ اسی پر بس نہیں بلکہ لیگی سوشل میڈیا ٹیم کا ایک اور کام یہ بھی ہے کے یہ سار دن شہباز شریف اور خٹک صاھب کا موازنہ کر رہے ہوتے ہیں۔ پشاور میں پڑے ہوئے گندگی کے ڈھیروں اور پانی سے بھری گلیوں کی تصاویر لگا کر کہتے ہیں کے دیکھو جی راولپنڈی اور لاہور پشاور سے تو بہتر ہیں نہ۔۔ مطلب آپ نے اپنا مقابلہ خٹک صاھب کے پشاور سے کرنا ہے جن کو حکومت میں آئے تین سال ہوئے ہیں اور خود آپ لاہور اور پنڈی میں پندرہ سال حکمران رہ چکے ہیں !!!
رہی یہ بات کے گورننس باقی صوبوں سے تو بہتر ہے تو یہ بات سو فصد درست ہے کے شہباز شریف کے مقابلے کی کوئی گورننس پاکستان کے کسی صوبے میں نہیں ہے لیکن حضرت آپ مجھے بتاؤ کیا شہباز شریف اسّی سالہ قائم علی شاہ سے اپنا موازنہ کریں گے جو اپنے وزن پر بنا سہارے کے "قائم" بھی نہیں رہ سکتے یا شہباز شریف اپنا موازنہ پرویز خٹک سے کریں گے جو اگر ڈانس کر رہے ہوں تو لگتا ہے کے تیز ہوا کے جھونکے کی وجہ سے ہل رہے ہوں!! جی نہیں کے شاہین کا مقابلہ کوّے سے نہیں ہو سکتا، اندھوں میں کانا راجہ بہت بن چکے ہیں آپ میاں صاھب ۔
 پس تحریر : عمران خان نے کل کہہ دینا ہے کے " پشاور میں صفائی اور نکاسی آب کی زمّداری میری نہیں وفاقی حکومت کی تھی"۔۔آپ خود سوچ لو آپ نے کیا کہنا ہے کیوں کے وفاق میں تو آپکے بڑے بھائی ہیں تو اپکو اُن کو زمّدار ٹھہرانے سے تو رہے

2 تبصرے:

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں